30 دسمبر 2011 - 20:30

عراق میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک میں جاری سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

ابنا: بغدا میں حال ہی میں قومی آشتی کے سلسلے میں ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس کانفرنس میں بعض سیاسی جماعتوں کے علاوہ سپاہ اسلامی ، سپاہ مجاہدین اور انصار السنہ جیسے بعض عسکری گروہ نے بھی شرکت کی۔ ان مسلح گروہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار زمین پر ڈال دیں گے اور عراق کے سیاسی دھارے میں شامل ہوجائيں گے لیکن العراقیہ اتحاد نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ اتحاد ملک کے سیاسی بحران کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔

یہ اتحاد عراق کے سیاسی عمل میں روڑے اٹکا کر نوری مالکی کی کابینہ دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ پارلیمنٹ اور کابینہ سے العراقیہ اتحاد کے نمائندوں کے نکلنے کے ساتھ عراق میں جو سیاسی بحران شروع ہوا تھا وہ عراق کے نائب صدر اور العراقیہ اتحاد کے ایک رکن طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اپنے عروج کو پہنچ گيا۔

العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے جس میں کردستان عراق کے سربراہ مسعود بارزانی اور مقتدی صدر شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایاد علاوی نے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے انعقاد اور وزارت عظمی کے لۓ قوی اتحاد کی جانب سے کسی دوسرے فرد کو نامزد کۓ جانے کی تجویز پیش کی ہے۔

العراقیہ اتحاد کی جانب سے یہ اشتعال انگیز تجاویز ایسی حالت میں پیش کی گئي ہیں کہ جب عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے اس شرط پر بغداد میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے کہ اس کانفرنس میں طارق الہاشمی کا موضوع نہیں اٹھایا جاۓ گا۔ حقیقت یہ ہے کہ عراق ماضی میں موجودہ سیاسی بحران سے زیادہ سنگین مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرچکا ہے اور اس بار بھی ملک کا سیاسی بحران مذاکرات کے ذریعے حل کرنےکی توانائي رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ امریکہ کے ایماء پر بعض عراقی گروہوں کی جانب سے مذموم اقدامات انجام دیۓ جانے کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ عراق کی موثر سیاسی جماعتیں عراق کے سیاسی عمل کے تسلسل اور نوری مالکی کے وزیر اعظم کی حیثیث سے اپنے فرائض انجام دینے کو ایک اصول قرار دیتی ہیں اور عراق کی سیاسی جماعتوں کے رہنما اسی اصول کے دائرے میں نوری مالکی اور ایاد علاوی کے باہمی اختلافات کو حل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں تاکہ ہر طرح کی ممکنہ غیر ملکی مداخلت کا راستہ مسدود ہو جاۓ اور عراق امریکی فوجیوں کی پسپائي کے بعد قومی اتحاد کے ساۓ میں امن و استحکام کے ساتھ ایک نۓ مرحلے کا آغاز کرسکے۔........ /169